گوادر کرکٹ اسٹیڈیم اورگوادر کی مسخ شدہ تاریخ

تحریر ! عزیز سنگھور
سنئیر صحافی

تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ یہ محاورہ ہے۔ تاریخ نے خود کو جس قدر بلوچستان میں دہرایا ہے، شاید ہی کبھی کسی خطے میں دہرایا ہو۔ حالانکہ ہر دور میں بلوچستان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

حال ہی میں بلوچستان کے ساحلی شہرگوادر میں سینیٹر اسحاق بلوچ کے نام سے منسوب کرکٹ اسٹیڈیم کے نام کو نام نہاد قومی میڈیا میں مسخ کرکے پیش کیاگیا۔ ایسا پیش کیاگیا کہ یہ گراؤنڈ حال میں سی پیک منصوبے کے تحت تعمیر کیاگیا۔

جبکہ ایسا نہیں ہے۔ تیس سال قبل گورگیج قبیلہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اسحاق بلوچ نے اپنے فنڈز سے تعمیر کیا تھا۔ جب وہ سینیٹ کے رکن تھے۔ اس زمانے میں نہ سی پیک کا جنم ہوا تھا، اور نہ ہی گوادر ڈیپ سی پورٹ تھی۔

تیس سال قبل تعمیر ہونے والا سینیٹر اسحاق بلوچ کرکٹ گراؤنڈمختلف ادوار میں میونسپل کمیٹی گوادر اس کی مرمت کرتی رہی۔ اس گراؤنڈ کے انتظامات گوادر کرکٹ ایسوسی ایشن دیکھتی تھی۔


جو مقامی کھلاڑیوں پر مشتمل ایک ایسوسی ایشن ہے۔ کسی زمانے میں اس اسٹیڈیم میں روزانہ کی بنیاد پر مقامی کھلاڑی پریکٹس سمیت میچ کھیلتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہاں ایک صحت مند ماحول نے جنم لینا شروع کردیا۔اس کھیل کے ذریعے نوجوان منشیات سمیت دیگر سماجی برائیوں کے خلاف سرگرم عمل تھے۔

تاہم یہ سلسلہ حال ہی میں تقریبا روک گیا۔ کیونکہ حال میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) سینیٹر اسحاق بلوچ کرکٹ اسٹیڈیم کی مرمت اور انتظامات مقامی ایسوسی ایشن سے چھین کرسرکار کی گود میں ڈال دیے۔

اور اب روزانہ کی بنیاد پریکٹس اپنی جگہ بلکہ میچ کھیلنے کے لئے مقامی ایسوسی ایشن کو اجازت لینی پڑتی ہے۔ یہ عمل سینیٹر اسحاق بلوچ کی سوچ کی موت ہے۔ انہوں نے گوادر کے لوگوں کے لئے یہ گراؤنڈ اس سوچ کے ساتھ بنایا تھا کہ یہاں گوادر کے نوجوان کھیل کی مثبت سرگرمیاں کرسکیں۔لیکن اب یہاں صرف دیگر شہروں سے لاکر فنکاروں اور کھلاڑیوں کے مابین نمائشی میچ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس گراؤنڈ کو تالا لگادیا جاتا ہے۔

حال میں وفاقی وزراء شیخ رشید احمد، علی زیدی، معاون خصوصی زلفی بخاری اور دیگر نے یہاں ایک نمائشی میچ میں شرکت کی۔ نمائشی میچ میں شرکت کے لئے کئی نامور فنکاروں نے بھی اس اسٹیڈیم میں پڑاؤ ڈالا۔

اس میچ کی کوریج سے مقامی صحافیوں کو دور رکھا گیا۔جبکہ دیگر شہروں سے نام نہاد قومی میڈیا کو بلایاگیا۔ تاکہ اپنی مرضی کی رپورٹنگ کرواسکیں اور ایساں ہی ہوا۔ کنٹرولڈ میڈیا نے اس اسٹیڈیم کو ایسا پیش کیا جیسا کہ یہ حال میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ صرف گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کا نام لیاگیا جس میں سینیٹر اسحاق بلوچ کے نام کو غائب کردیا۔

سماجی حلقوں کے مطابق جب گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) سینیٹر اسحاق بلوچ کرکٹ اسٹیڈیم کی مرمت کی تو اسٹیڈیم کے باہر ایک تختی لگادی گئی جس میں سینیٹر اسحاق بلوچ کرکٹ اسٹیڈیم نام ہی نہیں دیاگیا۔بلکہ صرف گوادر کرکٹ اسٹیڈیم لکھاگیا۔ جس پر سیاسی و سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ طویل احتجاج کے بعد پھر تختی پر سینیٹر اسحاق بلوچ کرکٹ اسٹیڈیم لکھاگیا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق بلوچستان سمیت گوادر کی تاریخ کو سرکاری طورپر مسخ کیا جاتا رہا ہے۔ بلوچ لیڈر شپ کی خدمات کو نظرانداز کی جاتی رہی ہے۔ اس کی جگہ بناوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔

جیساکہ گوادر کو عمان سے واپس لینے میں شہید نواب اکبر خان بگٹی کے کردار کو سرکاری طورپر چھپایا جاتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ گوادر کو دوبارہ بلوچستان کا حصہ بنانے میں نواب اکبر بگٹی کا ہاتھ تھا۔ یہ سہرا صرف نواب اکبرخان بگٹی سر جاتا ہے۔ مجھے (راقم) یاد ہے کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں دیگر صحافیوں کے ساتھ پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے سلسلے میں ڈیرہ بگٹی جانا پڑا جہاں ہماری ملاقات بزرگ سیاستدان نواب اکبر خان بگٹی سے ہوئی۔ اس زمانے میں گوادر میں ڈیپ سی پورٹ کا کام زور و شور سے جاری تھا۔ ڈیرہ بگٹی کے دورے کے دوران نواب بگٹی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ یہاں تاریخ کو بھی مسخ کرتے ہیں۔ انھوں نے گوادر کو واپس بلوچستان میں لانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ یوں کہا:
“خان آف قلات نے سلطنت آف عمان کے ایک ناراض حکمران کو رہنے کے لئے دیا گیا تھا۔ لیکن گوادر کے معاملے میں ملکیت کا دعویٰ نہیں چھوڑا اس لیے گوادر ہماری ملکیت تھی اور ہے ۔ اب اگر آپ کی ترقی ہماری موت کا سبب بنے تو یہ قابل قبول نہیں ہے”۔

نواب بگٹی نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کو واپس بلوچستان کا حصہ یا الحاق کرنے میں سہرا ان کے سر جاتا ہے۔ نواب بگٹی نے کہا کہ 1958 کو جب وہ وفاقی وزیرداخلہ اور دفاع تھے تو انہوں نے سلطان آف عمان سے گوادر کو دوبارہ واپس کرنے کی بات چیت کی۔

تاہم انہوں نے حوالگی کے عوض بڑی رقم کا مطالبہ کیا۔ جس پر انہوں نے وفاقی وزیرداخلہ اور دفاع کی حیثیت سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون سے رقم کی ادائیگی پر وزیراعظم کو راضی کروایا۔ اور اس طرح گوادر دوبارہ بلوچستان کا حصہ بن چکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے گوادر کی واپسی کے رقم دی ہے تو کسی نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا۔

کیونکہ اسلام آباد کی سرکار نے بھی ہماری (بلوچستان) گیس کا استعمال کرکے حساب کتاب چگتا کرلیا۔ بعض مورخ بھی یہی لکھتے ہیں کہ نواب بگٹی نے اپنے مختصر وزارت کے دور میں ان کا واحد اور بڑا کارنامہ گوادر کی عمان سے واپس بلوچستان کا حصہ بنایا تھا۔
بلوچستان کے عوام ساتھ ہونے والے سرکاری رویے پر معروف شاعر اور کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کی شاعری کے دو مصرعےصحیح عکاسی کرتے ہیں۔
“مجھے بھی ایک نہ اک دن غروب ہونا ہے۔
مجھے یہ صبح کی پہلی کرن سے یاد آیا”

بشکریہ ! روزنامہ آزادی، کوئٹہ

اپنا تبصرہ بھیجیں